فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10095
(535) ایک کام نہ کرنے کی قسم کھائی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 February 2014 03:13 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک خاص کام کے بارے میں قسم کھائی تھی کہ اگر اس نے اسے کیا تو وہ متواتر دو ماہ کے روزے رکھے گا لیکن اب اسے یہ خدشہ ہے کہ وہ اس کام کا ارتکاب نہ کر لے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ شخص ایک مخصوص کام سے رک جانے کا ارادہ رکھتاہے‘ لہٰذا اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر اس نے یہ کام کیا تو وہ متواتر دو ماہ کے روزے رکھے گا اور اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ اس کام سے باز رہنے کیلئے اس کے سامنے ایک قوی سبب بھی موجود ہو اور وہ متواتر دو ماہ کے روزے ہیں‘ تو اس طرح کی صورتحال کو نذر قرار دیا جائیگا اور وہ نذر جس سے مقصود ترغیب یا ممانعت یا تصدیق یا تکذیب ہو اہل علم کے نزدیک اس کا حکم قسم کا ہے لہٰذا اس شخص سے ہم یہ کہیں گے کہ اگر آپ نے یہ کام کر لیا تو آپ پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا اور وہ ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے دینا ایک غلام آزاد کرنا اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو تین کے روزے رکھنا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص513

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)