فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10061
(508) حیوانات کے ذبح کرنے کا شرعی طریقہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 February 2014 02:06 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حیوانات کے ذبح کرنے کیلئے صحیح اسلامی طریقہ کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس طرح کا ایک سوال پہلے بھی دفتر میں موصول ہوا تھا‘ جس کا جناب مفتی شیخ محمد بن ابراہیمؒ نے حسب ذیل شافی جواب دیا تھا:

اس ملک میں ذبح اور نحر کے شرعی طریقے کے بارے میں سوالات آتے رہتے ہیں اور سوال پوچھنے والوں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کئی بار دیکھا ہے کہ جانوروں کو ایسے طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ یہ مسئلہ چونکہ ہر عام و خاص کیلئے مشترک ہے‘ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے تبلیغ کے انداز میں بیان کیا جائے تاکہ امانت کو ادا کیا جا سکے اور امت کی خیر خواہی کی جا سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو توفیق عطا فرمائے… اس بات کو خوب جان لیجئے کہ ذبح کرنے کے شرعی طریقہ کیلئے کچھ شروط اور سنن ہیں لیکن سب سے پہلے ہم ایک جامع حدیث کو بیان کریں گے اور پھر ان شروط اور سنن کا تذکرہ کریں گے۔ اس حدیث کو امام مسلمؒ اور اصحاب سنن نے حضرت شداد بن اوسؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ » ( صحيح مسلم)

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان و بھلائی کو فرض قرار دیا ہے‘ لہٰذا جب (بھی) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ چھری کو تیز کر لو اور ذبیحہ کو آرام پہنچائو‘‘۔

ذبح کرنے کیلئے حسب ذیل چار شرطیں ہیں:

(۱) ذبح کرنے والے کی اہلیت یعنی یہ کہ وہ عاقل… خواہ بچہ ہو لیکن باشعور ہو… مسلم ہو یا کتابی ہو یعنی اس کے ماں باپ اہل کتاب میں سے ہوں اور اس سلسلہ میں اصل وہ حدیث ہے جو صحیحین میں حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى» ( صحیح بخاری)

’’تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اورہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جس کی وہ نیت کرے‘‘۔

نیز مسند امام احمد اور سنن ابی دائود میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عامرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

* مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ »( مسند احمد)

’’اپنے بیٹوں (اولاد) کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کے ہوں اور نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں سزا دو جبکہ وہ دس سال کے ہوں‘ نیز ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بالغ اور باشعور کو صفت عقل سے موصوف قرار دیا جائیگا لہٰذا باشعور کا قصد عبادت بھی صحیح ہے اور کتابی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَطَعامُ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حِلٌّ لَكُم...﴿٥﴾... سورة المائدة

’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے‘‘۔

صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ کھانے سے مراد اہل کتاب کا ذبیحہ ہے۔

(۲) دوسری شرط آلہ ہے کہ ہر اس آلہ کے ساتھ جانور کو ذبح کرنا جائز ہے جو اپنی دھار کے ساتھ خون بہا دے لیکن دانت اور ناخن کے ساتھ زبح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

«ما أنهر الدم وذكر اسم الله فكل ليس السن والظفر»(صحيح بخاري)

’’جو چیز بھی خون بہا دے اسے کھا لو لیکن وہ دانت اور ناخن نہ ہو‘‘۔

(۳) تیسری شرط گلا کاٹنا ہے‘ گلے سے مراد سانس اور کھانے کی رگیں ہیں۔ اس سلسلہ میں اصل وہ حدیث ہے جو سنن ابو دائود میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے شیطان کے نشتر سے منع فرمایا اور اس سے مراد وہ نشتر ہے جو ذبح کے وقت جلد کو توکاٹ دے لیکن گردن کی رگوں کو نہ کاٹے اوریہ اصول یاد رہے کہ نہی کا تقاضا تحریم ہی ہوتاہے اور سنن سعید بن منصور میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’’جب خون بہا دیاجائے اور رگیں کاٹ دی جائیں تو اس ذبیحہ کو کھا لو‘‘ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ ذبح کرنے کی جگہ حلق اور لبہ ہے۔ لبہ سے مراد وہ گڑھا ہے جو گردن کی جڑ اور سینے کے درمیان ہوتا ہے‘ اس کے علاوہ کسی اور جگہ سے ذبح کرنا جائز نہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ مقام نحر لبہ اور حلق ہے۔ سنن دار قطنی میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے بدیل بن ورقائؓ کو بھیجا کہ منیٰ کی وادیوں میں یہ اعلان کر دوکہ جس جگہ سے جانور ذبح کرنا ہے وہ حلق اور لبہ (گردن اور سینے کے درمیان کا گڑھا) ہے۔

(۴) چوتھی شرط اللہ کا نام لینا ہے یعنی ذبح کرنے والا ذبح کرنے کیلئے جب اپنے ہاتھ کو حرکت دے تو وہ بسم اللہ پڑھے۔

کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَأكُلوا مِمّا لَم يُذكَرِ‌ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَإِنَّهُ لَفِسقٌ...﴿١٢١﴾... سورة الانعام

’’اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھائو کہ اس کا کھانا گناہ ہے‘‘۔

نیز فرمایا:

﴿فَكُلوا مِمّا ذُكِرَ‌ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ ... ﴿١١٨﴾... سورة الانعام

’’جس چیز پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لیا کرو‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے نام لینے اور نہ لینے کی دونوں حالتوں اور دونوں حکموں میں فرق کیا ہے‘ ہاں البتہ اگر کوئی شخص بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا کیونکہ سعید بن منصور نے ’’سفن‘‘ میں نبی اکرمﷺ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے:

«ذبيحة المسلم حلال وإن لم يسم إاذا لم يتعمد» (إرواه الغليل)

’’مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ اللہ کا نام نہ بھی لے بشرطیکہ اس نے جان بوجھ کر اسے ترک نہ کیا ہو‘‘۔

اگر ان شرطوں میں سے ایک شرط بھی فوت ہو گئی تو ذبیحہ کھانا حلال نہ ہوگا۔ اس سلسلہ میں سنن حسب ذیل ہیں:

(۱‘۲) ذبح کرنے کا آلہ تیز ہو اور اسے قوت اور طاقت کے ساتھ چلایا جائے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

«وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته »(صحيح مسلم)

’’تمہیں چاہئے کہ چھری تیز کر لو اور ذبیحہ کو آرام پہنچائو‘‘۔

(۳‘۴) یہ بھی مسنون ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا مقصود ہو‘ تو وہ اس آلے کو نہ دیکھ رہا ہو جس سے اسے ذبح کرنا ہے‘ نیز ذبیحہ کو دوسرے جانوروں سے چھپا کر رکھنا چاہئے کیونکہ مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ چھری کو تیز کر لیا جائے اور اسے جانوروں سے چھپایا جائے اور معجم طبرانی کبیرو اوسط میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے اور اس کے تمام راوی صحیح ہیں کہ رسول اللہﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جس نے بکری کی گردن پر پائوں رکھا ہوا تھا‘ وہ چھری تیز کر رہا تھا اور بکری اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی‘ آپ نے فرمایا: ’’یہ کام اس سے پہلے کیوں نہ کر لیا‘ کیا تو اسے دو دفعہ مارنا چاہتا ہے‘‘۔

(۵) جانور کو قبلہ رخ کر لیا جائے کیونکہ رسول اللہﷺ نے جب بھی کسی ذبیحہ کو ذبح فرمایا یا ہدی (حج و عمرہ کی قربانی) کو نحر کیا تو اسے قبلہ رخ کر لیا تھا۔ اونٹ نحر کے وقت کھڑا کر لیا جائے اور اس کے بائیں پائوں کو باندھ لیا جائے اور بکری اور گائے وغیرہ کو بائیں پہلو پرلٹا لیا جائے۔

(۶) جانور کے ٹھنڈا ہونے یعنی اس کی روح نکلنے کے بعد اس کی گردن توڑی اور کھال اتاری جائے کیونکہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے بدیل بن ورقائؓ کو ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر بھیجا‘ جنہوں نے منیٰ کی وادیوں میں چند اعلانات کیے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جانوروں کے جسموں سے روحوں کے نکلنے سے پہلے جلدی نہ کرو۔ (دارقطنی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص472

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)