فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10016
(463) مرتد توبہ کرے تو اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 February 2014 04:37 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مرتد پر حد قائم کرنا ضروری ہے‘ یعنی اگر کسی مسلمان نے ماضی میں کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہو جس سے ارتداد لازم آتا ہو لیکن پھر اس نے توبہ کر کے اس سے رجوع کر لیا ہو تو کیا اس ارتداد کی وجہ سے اس پر حد قائم کرنا ضروری ہے لیکن یاد رہے اس نے ارتداد کا ارتکاب ایک ایسے ملک میں کیا ہے جہاں نفاذ شریعت نہیں ہے یا پھر ارتداد کے گناہ کو مٹانے کیلئے توبہ ہی کافی ہے اور اقامت حد ضروری نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص دین اسلام سے مرتد ہو جائے اور پھر توبہ و ندامت کے ساتھ رجوع کرے تو پھر حد قائم کرنا جائز نہیں کیونکہ حد تو اس پر قائم کی جاتی ہے جو ارتداد پر اصرار کرے اورجو توبہ کرے تو توبہ سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘ جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص417

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)