فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 10013
(460) شراب سے علاج
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 February 2014 04:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی مومن کیلئے یہ جائز ہے کہ بعض تکالیف کے علاج کیلئے وہ شراب پیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شراب حرام ہے اسے بطور دوا استعمال کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

’’اے بندگان الٰہی! علاج کرو لیکن حرام اشیاء کے ساتھ علاج نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کیلئے ان اشیاء میں اشفاء نہیں رکھی‘ جن کو اس نے حرام قرار دیا ہے‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص414

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)