فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 10011
(458) ادویات میں الکحل کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 February 2014 04:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض ادویارت کے بنانے اور جڑی بوٹیوں کے مرکبات میں الکحل بھی شامل کیا جاتا ہے لہٰذا اگر یہ معلوم ہو کہ کسی دوا میں الکحل ڈالا گیا ہے تو کیا اسے استعمال کرنا جائز ہے خواہ وہ کسی مرض کے علاج کیلئے استعمال کی جا رہی ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر الکحل بہت معمولی مقدار میں ہو جو کہ دوا ہی گھل مل گئی ہو اور دوا کی حفاظت کیلئے ضروری ہو تو اس دوا کا استعمال کرنا جائز ہے اور اگر الکحل کی مقدار زیادہ ہو اور وہ دوا کیلئے ضروری بھی نہ ہو تو پھر اس کا استعمال جائز نہیں خواہ علاج ہی کیلئے کیوں نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص412

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)